28 اپریل 2020

چین نے ووہان میں اپنے ساتھ کورونا وائرس لانے والی امریکی فوجی خاتون کی شناخت ظاہر کر دی ہے


 چین نے کورونا وائرس پھیلانے والی خاتون امریکی فوجی کی شناخت ظاہر کر دی۔تفصیلات کے مطابق چین نے اپنے شہر ووہان میں کورونا وائرس پھیلانے والی امریکی فوجی کی شناخت معلوم کرنے کا دعوی کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج میں ریزرو فوجی عہدیدار ہی یہ وبا پھیلانے والی خاتون فوجی ہیں۔اپنی رپورٹ میں چین نے دعوی کیا ہے کہ یہی خاتون اپنے ساتھ کورونا وائرس لائی تھی۔
ریزرو خاتون فوجی کا نام ماٹجی بیناسی ہیں۔ان کے شوہر میٹ نے اس نئی پیش رفت کو رات کا بھیانک خواب قرار دے دیا۔اگرچہ مارٹجی بیناسی میں کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا اور نہ ہی ان میں کسی طرح کی علامات ظاہر ہوئیں تاہم ان پر سازش کے تحت امریکی حکومت کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کو گزشتہ سال اکتوبر میں چین تک پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
وہ چین میں بطور سائیکلسٹ فوجی جنگی مشقوں میں شرکت کے لئے گئی تھیں۔چائنیز سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ چین اور اس کے بعد دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلانے کی ذمہ دار امریکی فوجی ماٹجی بیناسی ہیں۔سازشی نظریات میں پہلی مرتبہ ان کا نام مارچ میں سامنے آیا تھا۔تاہم بیناسی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انہیں اس سازشی نظریہ ماننے والے افراد سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا پتہ بھی جاری کیا گیا ہے
میری لیے یہ سب ایک بھیانک خواب سے کم نہیں۔بنارسی امریکی فوج کی سویلین ملازم ہیں اور امریکی فوج کے فورٹ بیلوائر ورجینیا میں تعینات ہیں۔انھوں نے چین کے شہروں ووہان میں ملٹری ورلڈ گیمز میں حصہ لیا تھا۔سائیکل ریس کے آخری چکر میں وہ حادثے کا شکار ہوگئی تھی اور ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھی۔ایک امریکی یوٹیوبر نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ تھا کہ کورونا وائرس امریکی فوجی لباٹری میں بنایا گیا اور اسے بینارسی اپنے ساتھ ملٹری اولمپکس میں شرکت کے موقع پر ساتھ لے گئی۔چین نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ووہان آنے والے امریکی فوجی وفد کی صحت اور انفیکشن انفارمیشن رپورٹ جاری کی جائیں

وائرس کی ساخت تک پہنچ کر دوائی بنانا بڑی کامیابی ہے فواد چودھری


  وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ وائرس کی ساخت تک پہنچ کراب دوائی بنائی جا رہی ہے، وائرس کی ساخت تک پہنچناسائنس کی بڑی کامیابی ہے وینٹی لیٹرز کی سیمپلنگ کا مرحلہ مکمل ہوگیا ،اب مینوفیکچرنگ کا کام شروع کردیں گے۔انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز پر پانچ یونیورسٹیز بھی ریسرچ کررہی ہیں۔
سائنس کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ ہم وائرس کی ساخت تک پہنچ گئے۔وائرس کی ساخت تک پہنچنے کے بعد اب ہم اس کی دوائی بنا رہے ہیں۔ جب وائرس پاکستان میں آیا تو ہم کوئی بھی چیز پاکستان میں نہیں بنا رہے تھے۔ وینٹی لیٹرز کے سیمپل کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے

عاصم باجوہ کی بطور معاون خصوصی تقرری پر سوشل میڈیا پر ردِعمل’سمارٹ لاک ڈاؤن لگاتے لگاتے سمارٹ مارشل لا لگا دیا

وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومتی ٹیم میں ایک بار پھر تبدیلی لاتے ہوئے اپنی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی جگہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو تعینات کر دیا ہے، جبکہ مشہور ادیب احمد فراز کے فرزند سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات کی ذمہ داری سونپ دی گئی
وزیراعظم کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا اور جہاں کچھ لوگوں کو ان کی تعیناتی ایک اچھا اقدام لگی تو وہیں کچھ اسے مارشل لا کی دوسری شکل قرار دیتے نظر آئے
صحافی محمد مالک کا کہنا تھا کہ شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی مواصلات کے موجودہ نظام میں عقل و فہم اور عزت کا باعث بنی گی

فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح کے درمیان تعلق

امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ کے اُن علاقوں میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی شرح زیادہ ہے جہاں فضا میں پی ایم 2.5 نامی ذرات کی بڑی مقدار موجود ہے
عالمی ادارۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فضا میں آلودگی کی بڑھی ہوئی سطح ایسے افراد کے لیے ایک اضافی خطرہ بن سکتا ہے جو کووڈ 19 سے بری طرح متاثر ہو رہے ہوں
ہارورڈ یونیورسٹی سمیت دو تازہ تحقیقوں میں فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او میں صحتِ عامہ اور ماحول کے ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریہ نیرہ نے کہا کہ وہ ممالک جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے انھیں کووڈ 19 کے خلاف لڑائی کی تیاری میں اِس عنصر کو بھی مددِ نظر رکھنا ہو گا۔
'ہم لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں ایسے ممالک کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے اور ہم وہاں کے حکام کی جانب سے مہیا کیے جانے والے اعداد وشمار کی مدد سے اِن علاقوں میں سب سے زیادہ آلودہ شہروں کا نقشہ بنائیں گے تاکہ وہ اِس کے مطابق حالیہ وبا کے خلاف منصوبہ بندی کر سکیں۔'طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا اور فضائی آلودگی کے درمیان کسی براہ راست تعلق کو ثابت کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ لیکن کئی ایسے ممالک میں، جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے، طبی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے کچھ ایسے مریضوں کو بھی دیکھا ہے جن کو فضائی آلودگی کی 
وجہ سے پہلے ہی صحت کے مسائل تھے اور انھیں کورونا وائرس نے زیادہ نقصان پہنچایا۔
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں اِس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے کئی برس پہلے سے اگر فضائی آلودگی میں کمی ہوتی تو اِس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح کافی کم ہوتی۔
اِس تحقیق کے مطابق وبا شروع ہونے سے پہلے کے کچھ برسوں میں ہوا میں آلودہ ذرات کا تھوڑا سا اضافہ کووڈ 19 سے اموات کی شرح میں 15 فیصد تک اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
تحقیق میں امریکہ کے زیادہ تر شہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ملکی سطح پر فضائی آلودگی اور مردم شماری کے اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے انھیں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے کورونا وائرس ریسورس سینٹر کے ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا گیا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ٹی این چین سکول آف پبلک ہیلتھ کی اِس تحقیق کے مطابق اُن علاقوں میں شرحِ اموات بڑھی ہے جہاں فضا میں پی ایم 2.5 نامی ذرات کی مقدار زیادہ ہے
پی ایم 2.5 فضا میں موجود بہت چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جن کا سائز انسانی بال کے قطر سے 13 گنا کم ہوتا ہے۔ اِن ذرات کو نظامِ تنفس کے انفیکشن اور پھیپڑوں کے کینسر کی ایک وجہ قرار یا جا چکا ہے۔
شمالی اٹلی میں کی جانے والی ایک دوسری تحقیق میں بھی یہ سامنے آیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران خطے میں زیادہ اموات کی ایک وجہ فضائی آلودگی کی بڑھی ہوئی سطح ہےاٹلی کی یونیورسٹی آف سائنا اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بھی فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے اموات کے درمیان تعلق کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔
21 مارچ تک کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی کے علاقوں لومبارڈی اور ایمیلیا میں باقی ملک کے مقابلے میں کورونا وائرس سے اموات کی شرح 12 فیصد زیادہ تھی۔ سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی اِس تحقیق کے مطابق شمالی اٹلی میں فضائی آلودگی کو زیادہ اموات کی ایک اضافی وجہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے

کورونا وائرس اپڈیٹ

کورونا وائرس اپڈیٹ

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ 11 ہزار سے زیادہ ہے

فردوس عاشق اعوان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات سینیٹر شبلی فراز نئے وزیر اطلاعات

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق 
اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹا کر فوج کے سابق ترجمان لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کو اس عہدے پر تعینات کر دیا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز کو وزیر برائے اطلاعات و نشریات مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے حکومت نے پیر کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اس کے مطابق فردوس عاشق اعوان کو فوری ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے
حکمراں جماعت کے ذررائع کے مطابق سابق مشیر اطلاعات پر الزام ہے کہ اُنھوں نے اپنے دور کے دوران پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ یا پی آئی ڈی پر اپنا اثر و رسوخ اسعتمال کیا۔ تاہم فردوس عاشق اعوان اس کی تردید کرتی ہیں
بی بی سی کو حکومتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک سال کے عرصے تک اس عہدے پر رہنے کے دوران پاکستان تحریک انصاف کا نظریاتی دھڑا فردوس عاشق اعوان کی بطور حکومتی ترجمان تعیناتی پر خوش نہیں تھا۔ اس کا اظہار اُنھوں نے متعدد بار وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران بھی کیا تھا۔
عہدے سے ہٹائے جانے کے نتیجے میں چلنے والی خبروں پر ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت سے ہٹائے جانے کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی من گھڑت خبروں میں لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہوں سیاسی کارکن کی حیثیت سے میرا نصب العین ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح ہے جو وزیراعظم کی قیادت میں جاری رکھا جائے گا
انھوں نے شبلی فراز اور عاصم باجوہ کو مبارکباد اور نیک تمناؤں کے پیغامات بھی دیے

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

تصویر کے کاپی رائٹشبلی فراز سینیٹ میں قائد ایوان ہیں اور حکمراں جماعت تحریک انصاف کے اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ نئے وفاقی وزیر اطلاعات منگل کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔

کورونا: ٹرمپ چین سے ناخوش انتہائی سنجیدہ تحقیقات کا آغاز کرنے کا دعویٰ

کورونا: ٹرمپ چین سے ناخوش انتہائی سنجیدہ تحقیقات کا آغاز کرنے کا دعویٰ


دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک
ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے چین کے دفتر خارجہ نے ان دعووں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ نے جان بوجھ کر کورونا وائرس کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی ہیں

27 اپریل 2020

حکومت کا چھوٹے کاروباری اور بے روزگار افراد کے لئے پیکج کی منظور


اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ صعنت ،کاروبار اور ملازمتوں سے متعلق دوپیکج ای سی سی نے منظورکیے ہیں جو کل وفاقی کابینہ میں پیش کیے جائیں گے، کابینہ سے منظوری کے بعد پیکج کی تفصیلات ویب سائٹ پر ڈال دی جائیں گی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیکج کی تفصیلات وزرات صعنت وپیدوار اور احساس پروگرام کی ویب سائٹ پر ڈالی جائیں گی، پیکج کے تحت بے روزگار ہونے والوں کو فی کس 12 ہزار روپے دیے جائیں گے جب کہ دوسرے پیکج کے تحت چھوٹےکاروبار والوں کے 3 ماہ کا بل حکومت اداکرے گی اس طرح 80 فی صد صنعتیں بل ادائیگی کے سلسلے میں مستفید ہوں گی
حماد اظہر نے مزید کہا کہ پاکستان میں 6کروڑ گھرانے ہیں اور ہم ایک کروڑ 70 لاکھ گھرانوں تک امداد پہنچائیں گے۔

کورونا وائرس کا علاج: دنیا کورونا ویکسین کے لیے انڈیا کی طرف کیوں دیکھ رہی ہے

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ انڈیا اور امریکہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ کا یہ بیان کسی کے لیے حیران کن نہیں تھا۔
دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ویکسین تیار کرنے کا پروگرام چلا رکھا ہے۔
ماضی میں دونوں ممالک ڈینگی، آنتوں کی بیماریوں، انفلوئنزا اور ٹی بی کی روک تھام کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ڈینگی کے لیے ویکسین کی آزمائش کا مستقبل قریب میں منصوبہ بنایا گیا ہے۔
انڈیا کا شمار دنیا بھر میں ادویات اور ویکسین تیار کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں تقریباً درجن بھر ویکسین تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں اور کئی چھوٹے ادارے پولیو اور نمونیا سے لے کر خسرہ اور روبیلا جیسے امراض کے خلاف استعمال ہونے والی خوراک بناتی ہیں۔
اب نصف درجن سے زیادہ انڈین دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین تیار کر رہی ہیں۔
ان میں سے ایک سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ہے اور یہ دنیا بھر میں ویکسین کی خوراک تیار اور فروخت کرنے کے معاملے میں تعداد کے حساب سے سب سے بڑی ویکسین ساز کمپنی ہے۔ تقریباً 53 سال سے دوائیں بنانے والی یہ کمپنی ہر سال ویکسین کی ڈیڑھ ارب خوراک تیار کرتی ہے۔
یہ تمام خوراک بنیادی طور پر مغربی ہند کے شہر پونے میں قائم دو مراکز میں تیار ہوتی ہیں۔ نیدرلینڈز اور جمہوریہ چیک میں بھی اس ادارے کے دو چھوٹے چھوٹے پلانٹس ہیں اور اس کمپنی میں تقریبا 7000 افراد کام کرتے ہیں۔
یہ کمپنی 165 ممالک میں تقریبا مختلف 20 ٹیکے یا وکیسین فراہم کرتی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی 80 فیصد ویکسین برآمد کی جاتی ہیں جس کی اوسط قیمت 50 امریکی سینٹ فی خوراک ہے جو کہ دنیا میں سب سے سستی مانی جاتی ہے۔
اب اس کمپنی نے امریکی بایوٹک کمپنی کوڈاجینکس کے ساتھ شراکت قائم کی ہے تاکہ ایسی ویکسین تیار کی جا سکے جو کہ 'براہ راست تخفیف' کرتی ہو۔ دنیا بھر میں اس وقت کورونا سے بچاؤ کے لیے 80 سے زیادہ ویکسینز تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔
یہ ویکسین بیماری پیدا کرنے والے وائرس کی قوت کو کم کر کے یا پھر اس کے نقصان دہ عوامل کو ختم کر کے بنائی جاتی ہے لیکن اس وائرس کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
چونکہ لیب میں بیماری پھیلانے والے جرثومے کی قوت کم کر دی جاتی ہے، اس لیے اس سے کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی ہے اور اگر ہوتی بھی ہے تو بہت ہلکی پھلکی۔
سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ادار پوناوالا نے مجھے فون پر بتایا کہ ’ہم اپریل میں اس ویکسین کی جانوروں (چوہوں اور بندروں) پر آزمائش کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور ستمبر تک ہم انسانوں پر اس کی تجربے شروع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔‘
ادار پوناوالا کی کمپنی آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے تیار کی جانے والی ویکسین کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بھی شراکت دار ہے۔ اس ویکسین کو حکومت برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔
اس ویکسین کی بنیاد بن مانس میں پایا جانے والا وائرس بنے گا۔ جمعرات کو آکسفورڈ میں انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہوا ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو سائنسدانوں کو یہ امید ہے کہ ستمبر تک ویکسین کی کم از کم دس لاکھ خوراکیں تیار ہو جائیں گی۔کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
لندن کے امپیریل کالج میں عالمی صحت کے پروفیسر ڈیوڈ نببارو کا کہنا ہے کہ انسانوں کو 'مستقبل قریب میں نظر آنے والی مدت تک' کورونا وائرس کے خطرے کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گا کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی کامیاب ویکسین تیار ہو ہی جائے گی۔
اور یونیورسٹی آف ورمونٹ میڈیکل سینٹر میں ویکسین پر تحقیق کرنے والے ٹم لاہے نے خبردار کیا ہے کہ 'کورونا وائرس کی ویکسین کے متعلق فکرمند ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے مدافعتی نظام کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔'
عالمی سطح پر کووڈ 19 کے انفیکشن سے پہلے ہی 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں سے پونے دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
ایسے میں ایک محفوظ ویکسین تیار کرنا جو بڑے پیمانے پر تیار کی جائے اس کے لیے ایک مدت درکار ہے اور ایک دقت طلب معاملہ ہے کیونکہ اسے جاری کرنے سے قبل اس کے لیے ہر قسم کے افراد پر اس کی کیمیائی اور حیاتیاتی طور پر جانچ ہونی ہے۔لیکن ادار پوناوالا کہتے ہیں: 'ہم پر امید ہیں کہ ہم دو سال یا اس سے کم عرصے میں محفوظ اور موثر ویکسین تیار کر لیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کام کر گئی بھارت مان گی


نیویارک :کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے اور اس مہلک وباء سے سب سے زیاد ہ متاثرہ ملک امریکہ بن گیاہے جہاں مریضوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہر ملک کو اپنی اپنی پڑ گئی ہے تاہم اندھیر ی رات میں ملیریا کی دوا کی صورت میں ایک روشنی کی کرن نظر آئی کیونکہ یہ دوا کوروناکے مریضوں پر کچھ بہتر انداز میں اثر کر رہی ہے اور تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کو شفائیاب ہونے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ بھارت میں بڑے پیمانے پر ادویات بنانے کی فیکڑیاں ہیں جو کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ادویات امپورٹ کرتی ہیں، موجود ہ صورتحال میں بھارت جیسے ملک میں بھی ”ہائیڈر کسی کلوروکوئن“ دوا کی قلت ہو گئی ہے کیونکہ لوگوں نے اسے سٹاک کرنا شروع کر دیا جس کے باعث بھارت کو اس کی برآمد پر پابندی لگانا پڑی لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی نے بھارت کو ہلا کر رکھا دیا۔ امریکی صدرکی دھمکی کے بعد بھارت نے امریکا کو کورونا وائرس کے علاج میں مددگار ملیریا کی دوا برآمد کرنے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔ہائیڈروکسی کلورو کوئن ایک پرانی اور سستی دوا ہے جسے ملیریا کے مریضوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ دوا کورونا وائرس کے علاج میں کسی حد تک مددگار رہی ہے بھارت کی جانب سے اس دوا کی برآمدات پر پابندی عائد کیے جانے کے چند گھنٹے بعد گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکا کی جانب سے آرڈر کی گئی ہائیڈروکسی کلوروکوئن دوا برآمد کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد طلب کی ہے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”اگر وہ ہمیں دوا برآمد نہیں کرتے ہیں تو مجھے حیرت ہو گی کیونکہ امریکا اور بھارت کے کئی سالوں سے بہت اچھے تجارتی تعلقات ہیں اور بھارت نے تجارت میں امریکا سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اگر بھارت دوا برآمد نہیں کرتا تو کوئی بات نہیں لیکن پھر اسے اس بات کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔“ تاہم امریکی دھمکی کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ملیریا کی دوا ہائیڈروکسی کلورو کوئن کو امریکا برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان ”انوراگ سری واستوا“ نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت پیراسیٹامول اور ہائیڈوکسی کلوروکوئن کو مناسب مقدار میں ان پڑوسی ممالک کو فروخت کرے گا جن کا انحصار ہماری صلاحیتوں پر ہےان کا کہنا تھا کہ ہم یہ دوائیں ان ملکوں کو فراہم کریں گے جو خصوصاً اس مرض سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ چین سے شروع ہونے والے اس وائرس سے دنیا بھر میں اب تک تقریباً 75 ہزار افراد ہلاک اور 13 لاکھ 50 ہزار سے زائد اس کی زد میں آ چکے ہیں۔